الور،4؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کا احتجاج پیر کو ایک نیا رخ اختیار کرسکتا ہے۔
ناگور کے رکن پارلیمنٹ ہنومان بینی وال نے کہا کہ اگر وہ پر امن طور پر احتجاج کررہے ہیں اور ان کے درمیان کوئی زبردستی آئے گا ، تو مجبوراً جواب بھی دینا پڑے گا۔ ان کا یہ اشارہ دہلی کوچ کے دوران ہریانہ پولیس کی مداخلت ہے۔
یہاں راجستھان کی کانگریس حکومت نے اپنے وزراء اور قانون سازوں کو بھی کہا کہ وہ کسانوں کے درمیان جاکر قوانین کے بارے میں بیداری لائیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ اب کانگریس کسانوں کے ساتھ آگے بڑھنے سے دریغ نہیں کرے گی۔ پچھلے 2 دن سے جاری بارش کی وجہ سے کسانوں کے خیمے پانی سے بھر گئے ہیں، توشک اور دیگر اشیاء بھیگنے کے بعد رات کے آرام کے لئے اضافی انتظامات کرنے پڑے۔
کسانوں کا کہنا تھا کہ لحاف کے لئے بڑی تعداد میں نئے گدے منگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بارش میں بھیگی ہوئی چیزوں کو دھوپ اور ہوا میں خشک کرکے دوبارہ کام لیا جارہا ہے ۔اتوار کے روز ایک روز قبل کسانوں کی ایک بڑی تعداد پنجاب اور اتراکھنڈ سے لگ بھگ 200 ٹریکٹروں کے ذریعہ شاہجہان پور کھیڑا ہریانہ بارڈر پر پہنچی،جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اب کسان دہلی کوچ کرنے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالیں گے۔